*آج جدوجہد آزادی کے عظیم رہنما اور شاعر رئیس الاحرار مولانا محمدعلی جوہر کا یومِ پیدائش ہے۔*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا محمد علی جوہر کی ولادت رام پور میں 1878ء کے اواخر میں ہوئی۔ مولانا نے اپنے ایک مضمون " میری زندگی کے پچاس سال" میں اپنی تاریخ ولادت 25 ذی الحجہ 1295ھ لکھی ہے ۔ اس اعتبار سے 10 دسمبر 1878ء ہوتی ہے اور منگل کا دن ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکثر عظیم شخصیتیں بچپن میں والدین کے ساۓ سے محروم ہوئیں ہیں ۔ مولانا کے سر سے بھی ان کے والد کا سایہ ابتدائی منزل اٹھ گیا ۔ بیوہ بی اماں نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دی ۔ پہاڑ جیسی جوانی بیوگی میں کاٹ دی ۔ بچوں کو باپ کی عدم موجودگی کا احساس نہیں ہونے دیا۔
مولانا نے پہلے قرآن مجید پڑھا ۔ ایک سرخ ریش استاد سے فارسی کی کتابیں پڑھیں۔ رام پور کے ایک نۓ سکول میں ان کا داخلہ کرا دیا گیا ۔ان کے دو بھائی شوکت علی اور ذوالفقار علی بریلی سکول میں پڑھتے تھے ۔ کچھ عرصے بعد مولانا کو بھی رام پور سے چالیس کلومیٹر دور بریلی سکول میں بھیج دیا گیا۔ اس سکول میں انگریزی کے علاوہ دوسرے مضامین بھی پڑھاۓ جاتے تھے ۔ رہائش کا انتظام بورڈنگ میں تھا۔
بریلی سکول میں مولانا کی ذہانت ظاہر ہوئی۔ ان کے جوہر چمکنے لگے۔ اسکول میں ان کی قابلیت کا سکہ بیٹھ گیا۔ وہ بلا کے ذہین تھے۔
بریلی سکول میں تعلیم کے زمانہ میں محمد علی شوکت کا کمال احترام کرتے تھے ۔ مولانا نے بریلی میں زیادہ عرصہ تک تعلیم نہیں پائی ۔ ان کے بھائی ذوالفقار علی علی گڑھ میں داخل ہو گۓ تھے ۔ شوکت علی دسویں پاس کرنے کے بعد پہنچے ۔ ان کے ساتھ مولانا بھی بھیج دیۓ گۓ کہ تینوں بھائی ایک ساتھ تعلیم حاصل کریں۔
وہ خداداد قابلیت کے مالک تھے ۔ بہت جلد کالج کی علمی و ادبی فضا پر چھا گۓ ۔ وہ کرکٹ کے شوقین تھے ۔ لیکن کرکٹ کے میدان میں مولانا شوکت علی سبقت لے گۓ اور علم و ادب کے حلقے میں مولانا نے عزت و شہرت پائی۔کالج کے پرنسپل ماریس ان کی انگریزی دانی کی تعریف کرتا تھا ۔ ایک بار انھوں نے کہا تھا:
" محمد علی تم ایک زمانہ میں انگریزی کے بے مثل ادیب ہو گے"
زمانہ نے دیکھ لیا کہ ماریس کی پیشن گوئی کس طرح درست ثابت ہوئی اور وہ انگریزی کے ایسے مایہ ناز ادیب تھے کہ مسلمانوں میں کیا، دوسری قوموں میں بھی ایسا ادیب پیدا نہ ہو سکا۔
علی گڑھ میں مولانا کی شاعری بھی خوب چمکی ۔ سجاد حیدر یلدرم کی معیت میں شعر و سخن کا ذوق بڑھتا گیا ۔ حسرت موہانیؔ کی صحبت نے اس میں چار چاند لگا دیۓ ۔ مولانا نے دس سال کی عمر سے شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔ مگر ان میں موزونیت اور معنی تھے ۔آج وہ کسی کو یاد نہیں ۔
جوہرؔ نے اپنی زندگی کے آٹھ سال علی گڑھ کالج میں گزارے ۔ انھوں نے 1896ء میں بی اے کیا اور پورے صوبے میں اول آۓ۔
مولانا نے انیس سال کی عمر میں تعلیم کے لیے انگلستان کا سفر کیا ۔مولانا آکسفورڈ میں لنکن کالج میں داخل ہوۓ ۔ ان کی طبیعت کو جن مضامین سے لگاؤ نہ تھا ان کو نہ پڑھتے تھے ۔ انگلستان میں انھوں نے ایک آزاد قوم کی زندگی کا مطالعہ کیا۔ آزادی کے مناظر دیکھے۔ ہندستان کی غلامی اور غلامانہ زہنیت پر ان کا دل کڑھتا تھا ۔ وہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے تڑپتے تھے ۔
وہاں وہ امتحان میں شریک ہوۓ مگر ناکام ہو گۓ۔ مولانا سول سروس میں ناکام ہوۓ مگر ایک زبردست ادیب پُر جوش مقرر اور ہونہار مدبر بن کر آۓ ۔ مولانا کو وطن واپس بلا لیا گیا۔ ان کی والدہ نے ان کا دل میلا نہیں ہونے دیا۔ ان کی حوصلہ افزائی کی ۔ امجدی بیگم سے ان کی شادی کر دی اور انھیں حصول تعلیم کے لیے دوبارہ انگلستان بھیجا ۔انھوں نے آکسفورڈ سے بی اے کیا اور اپنی غیر معمولی استعداد و لیاقت کی بنا پر آکسفورڈ سوسائٹی کے ممبر مقرر ہوء ۔ یہ پہلے ہندوستانی تھے جن کو یہ اعزاز ملا ۔ انھوں نے بہت خوب نام کمایا۔
مولانا جوہرؔ ذیابیطس کے مریض تھے ۔ اس مرض میں آرام کی ضرورت ہوتی تھے ۔ مگر جوہرؔ کو آرام کہاں؟ انتہائی نازک حالات میں بھی وہ قوم کے غم میں نڈھال اور اس کی ترقی اور اصلاح کے لیے سر گرم عمل تھے۔ وہ مجاہد تھے۔ وقت کی مخالفت قوت اور نامساعد حالات کے خلاف جہاد کر رہے تھے ۔ بیماری بھی ایک سبب تھا ۔ ان کے داہنے پاؤں میں اعصابی سوزش کراچی جیل میں 1920ئ میں پیدا ہو گئی تھے۔ پشت اور پنڈلی کے قریب درد تھا ۔ بعد میں وہ تکلیف کم ہوتی بڑھتی گئی ۔ مولانا نے پرواہ نہ کی ۔ علاج کراتے رہے۔
1926ء میں مکہ معظمہ میں موتمر عالم اسلام کے دوسری اجلاس میں یہ تکلیف بڑھی اور قلب کی طرف کا آدھا جسم مفلوج ہو گیا ۔ تقریباۤ سوا گھنٹے تک یہی حالت رہی " بقول مولانا زندگی کو موت سے زیادہ تکلیف دہ بنا دیا تھا۔
مہاراجہ الور کی طرف سے جولائی 1928ء میں علاج کے سلسلہ میں یورپ گۓ۔
1930ء میں وہ گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے جہاں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں غلام ملک میں واپس نہیں جائوں گا، میں ایک غیر ملک میں بشرطیکہ وہ ایک آزاد ملک ہو مرنے کو ترجیح دوں گا۔ اگر آپ ہندوستان کو آزادی نہیں دیں گے تو مجھے یہاں قبر کی جگہ دینی پڑے گی۔ ان کی یہ خواہش حرف بہ حرف پوری ہوئی اور اس تقریر کے چند دن بعد 4 جنوری 1931ء کو وہ لندن ہی میں وفات پاگئے۔ انہیں بیت المقدس میں سپرد خاک کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکیل فاروقی صاحب کی درج ذیل ایک تحریر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رئیس الاحرار مولانا محمدعلی جوہر بے شمار صفات کا مجموعہ تھے۔ تحریک خلافت کے سپہ سالار کی حیثیت سے ان کا نام مثل خورشید تا قیامت روشن رہے گا۔ صحافت اور سیاست ان کا طرہ امتیاز تھا۔ ان کے قلم میں تلوار جیسی کاٹ تھی۔ اس لحاظ سے اگر انھیں صاحب سیف و قلم کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ اردو میں ’’ہمدرد‘‘ اور انگریزی میں ’’کامریڈ‘‘ نامی بے مثل اخبارات میں انھوں نے اپنی قابلیت کے خوب خوب جوہر دکھائے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ محض گفتار کے ہی نہیں کردار کے بھی غازی تھے۔ وہ سر سے پیر تک ایک عملی انسان تھے جن کے قول و فعل میں ذرا سا بھی تضاد نہیں تھا۔ اس اعتبار سے وہ عہد حاضر کے سیاست دانوں اور صحافیوں سے قطعی مختلف تھے۔ ان کے یہاں سیاست اور صحافت دونوں کو ہی عبادت کا درجہ حاصل تھا۔ لہٰذا ان کے اوصاف اور خوبیوں کو بیان کرنا اور ان کی ہمہ جہت شخصیت کا احاطہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
سفینہ چاہیے اس بحر بے کراں کے لیے
اسلام صرف ان کا دین نہیں بلکہ مقصد حیات اور زندگی بھر کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ اس حوالے سے ان کی زندگی کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں۔
1923 کا آخری زمانہ تھا۔ مولانا کراچی کے مشہور و معروف خالق دینا ہال میں چلنے والے تاریخی مقولے کے بعد دوسری باراسیری سے رہا ہوکر تازہ تازہ دلی تشریف لائے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ان کی شہرت اور مقبولیت بام عروج پر تھی۔ گلی گلی،کوچہ کوچہ اورشہر درشہر بس ان ہی کے چرچے تھے۔ کانگریس کے سرکردہ رہنما گاندھی جی کے ساتھ ساتھ پورے ہندوستان میں ان کی بھی جے جے کار ہو رہی تھی اور کانگریس کے سالانہ اجلاس کی صدارت کے لیے متعدد صوبوں سے ان کا نام منظور ہوچکا تھا۔ ان حالات میں علی گڑھ کے ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران انھوں نے برجستہ فرمایا کہ عقائد کے اعتبار سے ایک عام فاسق مسلمان کو بھی گاندھی جی پر فوقیت حاصل ہے۔ مولانا کے ان کلمات پر ہندو چراغ پا ہوگئے اور کانگریسی حلقوں میں تو ایک طوفانی ہلچل مچ گئی۔ بعض کانگریسی رہنماؤں نے تو یہ تک کہہ دیا کہ ایسا فرقہ پرست شخص کانگریس کا بھلا کیسے بن سکتا ہے؟محمد علی جوہر کی جگہ اگر کوئی اور شخص ہوتا تو گھبرا کر معذرت خواہی پر اتر آتا۔ مگر اللہ کا یہ شیر پوری جرأت اور استقامت کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔
مشہور و معروف امین الدولہ پارک کے ایک اہم جلسہ عام میں انھوں نے ببانگ دہل یہ بھی کہا کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیے۔’’جہاں تک سیاست کا تعلق ہے گاندھی جی ہم سب کے پیشوا ہیں لیکن جہاں تک مذہب کا تعلق ہے میرا یہی عقیدہ ہے کہ ایک فاسق و فاجر کلمہ گو بھی اپنے عقائد کے لحاظ سے تنہا مہاتما گاندھی ہی نہیں بلکہ دنیا جہان کے تمام بہتر سے بہتر سارے غیر مسلموں سے بڑھ چڑھ کر ہے۔‘‘ مولانا کی اس جرأت مندی کے نتیجے میں پورے مجمع پر سناٹا چھا گیا۔
اسی طرح جب پونا کے ایک ہندو اخبار میں گؤرکھشا یعنی گائے کے تقدس کی حمایت میں ہندو انتہا پسند رہنما بال گنگا دھر تلک کے حمایت یافتہ ایڈیٹر این سی کیلکر کا ایک متعصبانہ مضمون شایع ہوا تو مولانا بری طرح تڑپ اٹھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ان کا مشہور انگریزی اخبار کامریڈ فرنگی حکومت کے زیر عتاب ہونے کی وجہ سے بند پڑا ہوا تھا۔ یہ اشتعال انگیز مضمون مسلمانوں کے لیے کسی دھمکی سے کم نہ تھا۔ چنانچہ مولانا نے فوراً اس کے جواب میں ایک زبردست خط تحریر کرکے کیلکر کو ارسال کرنے کے لیے اپنے سیکریٹری حسن محمد حیات کے حوالے کردیا۔ اس خط کا لب لباب یہ تھا کہ اگر مسلمانوں پر ذرا بھی جبر کا کوئی پہلو پیدا ہوا تو میں پونا آکر خود اپنے ہاتھوں سے گائے ذبح کروں گا۔
اسی طرح انگریزوں کی حکومت کو للکارتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ’’میری بغاوت اس وقت سے شروع ہونے لگتی ہے جب دین و مذہب میں حکومت کی مداخلت شروع ہوجاتی ہے۔‘‘
ایک اور واقعہ 1928 کے درمیان کا ہے جب مولانا ذیابیطس کے علاج کے سلسلے میں فرانس اور برطانیہ گئے ہوئے تھے۔ ایک روز لندن کے ایک اخبار میں یہ خبر چھپی کہ ایک مسلمان کو پارلیمنٹ کی گیلری میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا گیا جوکہ بالکل انوکھی بات تھی۔ سب جان گئے کہ یہ مولانا محمدعلی جوہر کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔
مولانا پر بس یہی دھن سوار تھی کہ پورا یورپ گھومیں اور قرآن کے انمول خزانے کو ایک ایک شخص تک پہنچائیں اور ہر اسٹیشن، ہر پارک اور ہر چوراہے پر نماز ادا کرکے لوگوں کو دین اسلام کے ابدی پیغام سے روشناس کرائیں۔
اسی سلسلے کا ایک اور واقعہ بھی ہے۔
رات آدھی سے زیادہ ڈھل چکی تھی۔ غالباً شب کا پچھلا پہر تھا۔ ستارے آسمان پر ٹمٹما رہے تھے۔ اس وقت مفتی اعظم فلسطین امین الحسین صاحب خانہ کعبہ کے پاس سے ہوکر گزر رہے تھے۔ دیکھتے کیا ہیں کہ ایک شخص نہایت عاجزی اور دلسوزی کے ساتھ گریہ و زاری میں مصروف ہے۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک جھڑی لگی ہوئی ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ آواز بیٹھی ہوئی اور گردن سجدے میں جھکی ہوئی ہے۔ وہ شخص گڑگڑا کر اور رو رو کر پکار رہا تھا کہ ’’اے کارساز عالم چاہے تو میری کوئی اور آرزو پوری نہ کر، لیکن ایک بار ان آنکھوں کے سامنے خلافت راشدہ کا احیاء کرکے وہ مبارک اور مسعود زمانہ واپس لاکر دکھادے جس کا ذکر ہم نے صرف کانوں سے سنا ہے مگر آنکھیں جس کی دید سے اب تک محروم ہیں۔‘‘
مفتی اعظم فلسطین کا بیان ہے کہ میں حیرت سے یہ عجیب وغریب منظر دیکھ رہا تھا۔ پھر جب اس شخص نے اپنی پیشانی سجدے سے اٹھائی تو دیکھتا کیا ہوں کہ یہ مولانا محمد علی جوہر تھے جن کا نورانی چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔
اللہ تعالیٰ نے مولانا محمد علی کو شاعری کی نعمت سے بھی نوازا تھا اور جوہر ان کا تخلص تھا۔ اس بے بہا نعمت سے بھی انھوں نے وہی کام لیا جو ایک مرد مومن کے شایان شان تھا۔ ان کی شاعری و ارادت قلب سے عبارت ہے اور یہ ان کے دل کی زبان اور جذبہ صادق کی ترجمان ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب اشعار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻗﺘﻞ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮒ ﯾﺰﯾﺪ ﮨﮯ
ﺍﺳﻼﻡ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮨﺮ ﮐﺮﺑﻼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺷﮑﻮﮦ ﺻﯿﺎﺩ ﮐﺎ ﺑﮯ ﺟﺎ ﮨﮯ ﻗﻔﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﻠﺒﻞ
ﯾﺎﮞ ﺗﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﺗﺮﺍ ﻃﺮﺯ ﻓﻐﺎﮞ ﻻﯾﺎ ﮨﮯ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﯿﺎﺻﺒﺢ ﺗﻠﮏﺳﺎﺗﮫﻧﺒﮭﮯ ﮔﺎ ﺍﮮ ﻋﻤﺮ
ﺷﺐﻓﺮﻗﺖ ﮐﯽ ﺟﻮﮔﮭﮍﯾﻮﮞ ﮐﺎﮔﺰﺭﻧﺎ ﮨﮯ ﯾﮩﯽ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﯾﮧﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧﺳﻮﺩﺍﺋﯽ ﮨﮯ
ﺍﺏ ﻣﺮﺍ ﮨﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺎ ﺗﺮﯼ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﮨﮯ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﻮﺣﯿﺪ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﺪﺍﺣﺸﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺩﮮ
ﯾﮧ ﺑﻨﺪﮦ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺧﻔﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﮐﺲ ﺳﮯ ﺁﺯﺭﺩﮦ ﻣﺮﮮ ﻗﺎﺗﻞ ﮐﺎ ﺧﻨﺠﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺟﻮ ﺁﺝ ﯾﻮﮞ ﺟﺎﻣﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﻣﯿﺮﺍ ﺷﮩﺮﮦ ﺁﺝ ﺍﮎ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﮔﮭﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻗﺎﺗﻞ ﯾﮧ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺗﺸﻨﮧ ﻟﺐ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺩﮦ ﺧﻮﺍﺭ
ﮐﯿﺎ ﺗﺮﺍ ﺳﺎﻏﺮ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﻗﯽ ﺟﺎﻡ ﮐﻮﺛﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﻭﺣﺸﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﮮ ﺩﺳﺖ ﺟﻨﻮﮞ ﮐﺲ ﮐﺎﻡ ﮐﯽ
ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﯿﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺩﻭﺑﮭﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﺟﻮﺵ ﻭﺣﺸﺖ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻋﺮﯾﺎﮞ ﮨﯽ ﺭﮨﮯ
ﺑﺎﺭﮮ ﻣﺮ ﮐﺮ ﺍﮎ ﮐﻔﻦ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﯾﺎ ﻧﮧ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﺧﯿﺎﻝ
ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺑﮯ ﺑﺎﮎ ﺗﻮ ﺍﮮ ﺩﯾﺪۂ ﺗﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﻣﮋﺩﮦ ﺍﮮ ﮔﻨﺞ ﺷﮩﯿﺪﺍﮞ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﮭﯽ ﺩﻥ ﭘﮭﺮ ﮔﺌﮯ
ﺁﺝ ﺩﻝ ﺑﺮﺩﺍﺷﺘﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺟﻮﮨﺮؔ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لئے ہے
پر غیب سے سامانِ بقا میرے لئے ہے
پیغام ملا تھا جو حسین ابنِ علی کو
خوش ہوں وہی پیغامِ قضا میرے لئے ہے
یہ حورِ بہشتی کی طرف سے ہے بلاوا
لبیک کہ مقتل کا صلا میرے لئے ہے
کیوں جان نہ دوں غم میں ترے جب کہ ابھی سے
ماتم یہ زمانے میں بپا میرے لئے ہے
میں کھو کے تری راہ میں سب دولتِ دنیا
سمجھا کہ کچھ اس سے بھی سوا میرے لئے ہے
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے
سرخی میں نہیں دستِ حنا بستہ بھی کچھ کم
پر شوخئ خونِ شہداء میرے لئے ہے
راحل ہوں مسلمان بصد نعرہء تکبیر
یہ قافلہ یہ بانگِ درا میرے لئے ہے
انعام کا عقبٰی کے تو کیا پوچھنا لیکن
دنیا میں بھی ایماں کا صلا میرے لئے ہے
کیوں ایسے نبی پر نہ فدا ہوں کہ جو فرمائے
اچھے تو سبھی کے ہیں برا میرے لئے ہے
اے شافعِ محشر جو کرے تو نہ شفاعت
پھر کون وہاں تیرے سوا میرے لئے ہے
اللہ ہی کے رستے میں موت آئے مسیحا
اکسیر یہی ایک دوا میرے لئے ہے
کیا ڈر جو ہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لئے ہے
جو صحبتِ اغیار میں ہو اس درجہ بیباک
اس شوخ کی سب شرم و حیا میرے لئے ہے
ہے ظلم بہت عام ترا پھر بھی ستمگر
مخصوص یہ اندازِ جفا میرے لئے ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مل چکا تجھ سے صلہ ہم کو وفاداری کا
تجھ کو آیا نہ سلیقہ کبھی دل داری کا
طفل مکتب ہے ترے سامنے خود چرخ کہن
کس سے سیکھا ہے یہ انداز دل آزاری کا
عقل والا کوئی بچتا نہیں پھندے سے ترے
گو بہت عام ہے شہرہ تری عیاری کا
ہم کو خود شوقِ شہادت ہے، گواہی کیسی؟
فیصلہ کر بھی چکو مجرمِ اقراری کا
میری شہرت بھی اگر ہوگی تو کیا؟ قتل بھی کر
نام ہوجائے گا تیری بھی ستم گاری کا
کیا قباحت ہے مری قتل سے شہرت ہی سہی
نام ہوگا نہ بھلا تیرے ستم گاری کا
قاتل اب دیر ہے کیا؟ جام شہادت دے چک
ہوگیا وقت کبھی کا، مری افطاری کا
تو ہو آمادہ جو، اے دل تو ہے پھر دار بھی ہیچ!
آزما دیکھ، یہ سب کھیل ہے تیاری کا!
سب ہیں فانی، غم دنیا نہ رہا، ہم نہ رہے
رہ گیا نام ِغم عشق کی غم خواری کا
تو تو ہم سب کو یہیں چھوڑ چلا اے جوہر
شور سنتے تھے بہت تیری وفاداری کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دَورِحیات آئے گا قاتِل! قضا کے بعد
ہے اِبتدا ہماری، تِرے اِنتہا کے بعد
جِینا وہ کیا، کہ دل میں نہ ہو تیری آرزو
باقی ہے موت ہی، دلِ بے مُدّعا کے بعد
تجھ سے مُقابلہ کی، کِسے تاب ہے ولے
میرا لہُو بھی خوب ہے تیری حِنا کے بعد
لذّت ہنوز مایدۂ عشق میں نہیں!
آتا ہے لُطفِ جُرمِ تمنّا، سزا کے بعد
قتلِ حُسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اِسلام زندہ ہوتا ہے ہرکربلا کے بعد
مُمکن ہے نالہ جبر سے رُک بھی سکے، مگر
ہم پرتو ہے وفا کا تقاضا، جفا کے بعد
ہے کِس کے بل پہ حضرتِ جوہر یہ رُوکشی
ڈھونڈیں ہے آپ کِس کا سہارا خُدا کے بعد
_از:وجاہت علی حسن_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا محمد علی جوہر کی ولادت رام پور میں 1878ء کے اواخر میں ہوئی۔ مولانا نے اپنے ایک مضمون " میری زندگی کے پچاس سال" میں اپنی تاریخ ولادت 25 ذی الحجہ 1295ھ لکھی ہے ۔ اس اعتبار سے 10 دسمبر 1878ء ہوتی ہے اور منگل کا دن ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکثر عظیم شخصیتیں بچپن میں والدین کے ساۓ سے محروم ہوئیں ہیں ۔ مولانا کے سر سے بھی ان کے والد کا سایہ ابتدائی منزل اٹھ گیا ۔ بیوہ بی اماں نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دی ۔ پہاڑ جیسی جوانی بیوگی میں کاٹ دی ۔ بچوں کو باپ کی عدم موجودگی کا احساس نہیں ہونے دیا۔
مولانا نے پہلے قرآن مجید پڑھا ۔ ایک سرخ ریش استاد سے فارسی کی کتابیں پڑھیں۔ رام پور کے ایک نۓ سکول میں ان کا داخلہ کرا دیا گیا ۔ان کے دو بھائی شوکت علی اور ذوالفقار علی بریلی سکول میں پڑھتے تھے ۔ کچھ عرصے بعد مولانا کو بھی رام پور سے چالیس کلومیٹر دور بریلی سکول میں بھیج دیا گیا۔ اس سکول میں انگریزی کے علاوہ دوسرے مضامین بھی پڑھاۓ جاتے تھے ۔ رہائش کا انتظام بورڈنگ میں تھا۔
بریلی سکول میں مولانا کی ذہانت ظاہر ہوئی۔ ان کے جوہر چمکنے لگے۔ اسکول میں ان کی قابلیت کا سکہ بیٹھ گیا۔ وہ بلا کے ذہین تھے۔
بریلی سکول میں تعلیم کے زمانہ میں محمد علی شوکت کا کمال احترام کرتے تھے ۔ مولانا نے بریلی میں زیادہ عرصہ تک تعلیم نہیں پائی ۔ ان کے بھائی ذوالفقار علی علی گڑھ میں داخل ہو گۓ تھے ۔ شوکت علی دسویں پاس کرنے کے بعد پہنچے ۔ ان کے ساتھ مولانا بھی بھیج دیۓ گۓ کہ تینوں بھائی ایک ساتھ تعلیم حاصل کریں۔
وہ خداداد قابلیت کے مالک تھے ۔ بہت جلد کالج کی علمی و ادبی فضا پر چھا گۓ ۔ وہ کرکٹ کے شوقین تھے ۔ لیکن کرکٹ کے میدان میں مولانا شوکت علی سبقت لے گۓ اور علم و ادب کے حلقے میں مولانا نے عزت و شہرت پائی۔کالج کے پرنسپل ماریس ان کی انگریزی دانی کی تعریف کرتا تھا ۔ ایک بار انھوں نے کہا تھا:
" محمد علی تم ایک زمانہ میں انگریزی کے بے مثل ادیب ہو گے"
زمانہ نے دیکھ لیا کہ ماریس کی پیشن گوئی کس طرح درست ثابت ہوئی اور وہ انگریزی کے ایسے مایہ ناز ادیب تھے کہ مسلمانوں میں کیا، دوسری قوموں میں بھی ایسا ادیب پیدا نہ ہو سکا۔
علی گڑھ میں مولانا کی شاعری بھی خوب چمکی ۔ سجاد حیدر یلدرم کی معیت میں شعر و سخن کا ذوق بڑھتا گیا ۔ حسرت موہانیؔ کی صحبت نے اس میں چار چاند لگا دیۓ ۔ مولانا نے دس سال کی عمر سے شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔ مگر ان میں موزونیت اور معنی تھے ۔آج وہ کسی کو یاد نہیں ۔
جوہرؔ نے اپنی زندگی کے آٹھ سال علی گڑھ کالج میں گزارے ۔ انھوں نے 1896ء میں بی اے کیا اور پورے صوبے میں اول آۓ۔
مولانا نے انیس سال کی عمر میں تعلیم کے لیے انگلستان کا سفر کیا ۔مولانا آکسفورڈ میں لنکن کالج میں داخل ہوۓ ۔ ان کی طبیعت کو جن مضامین سے لگاؤ نہ تھا ان کو نہ پڑھتے تھے ۔ انگلستان میں انھوں نے ایک آزاد قوم کی زندگی کا مطالعہ کیا۔ آزادی کے مناظر دیکھے۔ ہندستان کی غلامی اور غلامانہ زہنیت پر ان کا دل کڑھتا تھا ۔ وہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے تڑپتے تھے ۔
وہاں وہ امتحان میں شریک ہوۓ مگر ناکام ہو گۓ۔ مولانا سول سروس میں ناکام ہوۓ مگر ایک زبردست ادیب پُر جوش مقرر اور ہونہار مدبر بن کر آۓ ۔ مولانا کو وطن واپس بلا لیا گیا۔ ان کی والدہ نے ان کا دل میلا نہیں ہونے دیا۔ ان کی حوصلہ افزائی کی ۔ امجدی بیگم سے ان کی شادی کر دی اور انھیں حصول تعلیم کے لیے دوبارہ انگلستان بھیجا ۔انھوں نے آکسفورڈ سے بی اے کیا اور اپنی غیر معمولی استعداد و لیاقت کی بنا پر آکسفورڈ سوسائٹی کے ممبر مقرر ہوء ۔ یہ پہلے ہندوستانی تھے جن کو یہ اعزاز ملا ۔ انھوں نے بہت خوب نام کمایا۔
مولانا جوہرؔ ذیابیطس کے مریض تھے ۔ اس مرض میں آرام کی ضرورت ہوتی تھے ۔ مگر جوہرؔ کو آرام کہاں؟ انتہائی نازک حالات میں بھی وہ قوم کے غم میں نڈھال اور اس کی ترقی اور اصلاح کے لیے سر گرم عمل تھے۔ وہ مجاہد تھے۔ وقت کی مخالفت قوت اور نامساعد حالات کے خلاف جہاد کر رہے تھے ۔ بیماری بھی ایک سبب تھا ۔ ان کے داہنے پاؤں میں اعصابی سوزش کراچی جیل میں 1920ئ میں پیدا ہو گئی تھے۔ پشت اور پنڈلی کے قریب درد تھا ۔ بعد میں وہ تکلیف کم ہوتی بڑھتی گئی ۔ مولانا نے پرواہ نہ کی ۔ علاج کراتے رہے۔
1926ء میں مکہ معظمہ میں موتمر عالم اسلام کے دوسری اجلاس میں یہ تکلیف بڑھی اور قلب کی طرف کا آدھا جسم مفلوج ہو گیا ۔ تقریباۤ سوا گھنٹے تک یہی حالت رہی " بقول مولانا زندگی کو موت سے زیادہ تکلیف دہ بنا دیا تھا۔
مہاراجہ الور کی طرف سے جولائی 1928ء میں علاج کے سلسلہ میں یورپ گۓ۔
1930ء میں وہ گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے جہاں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں غلام ملک میں واپس نہیں جائوں گا، میں ایک غیر ملک میں بشرطیکہ وہ ایک آزاد ملک ہو مرنے کو ترجیح دوں گا۔ اگر آپ ہندوستان کو آزادی نہیں دیں گے تو مجھے یہاں قبر کی جگہ دینی پڑے گی۔ ان کی یہ خواہش حرف بہ حرف پوری ہوئی اور اس تقریر کے چند دن بعد 4 جنوری 1931ء کو وہ لندن ہی میں وفات پاگئے۔ انہیں بیت المقدس میں سپرد خاک کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکیل فاروقی صاحب کی درج ذیل ایک تحریر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رئیس الاحرار مولانا محمدعلی جوہر بے شمار صفات کا مجموعہ تھے۔ تحریک خلافت کے سپہ سالار کی حیثیت سے ان کا نام مثل خورشید تا قیامت روشن رہے گا۔ صحافت اور سیاست ان کا طرہ امتیاز تھا۔ ان کے قلم میں تلوار جیسی کاٹ تھی۔ اس لحاظ سے اگر انھیں صاحب سیف و قلم کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ اردو میں ’’ہمدرد‘‘ اور انگریزی میں ’’کامریڈ‘‘ نامی بے مثل اخبارات میں انھوں نے اپنی قابلیت کے خوب خوب جوہر دکھائے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ محض گفتار کے ہی نہیں کردار کے بھی غازی تھے۔ وہ سر سے پیر تک ایک عملی انسان تھے جن کے قول و فعل میں ذرا سا بھی تضاد نہیں تھا۔ اس اعتبار سے وہ عہد حاضر کے سیاست دانوں اور صحافیوں سے قطعی مختلف تھے۔ ان کے یہاں سیاست اور صحافت دونوں کو ہی عبادت کا درجہ حاصل تھا۔ لہٰذا ان کے اوصاف اور خوبیوں کو بیان کرنا اور ان کی ہمہ جہت شخصیت کا احاطہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
سفینہ چاہیے اس بحر بے کراں کے لیے
اسلام صرف ان کا دین نہیں بلکہ مقصد حیات اور زندگی بھر کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ اس حوالے سے ان کی زندگی کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں۔
1923 کا آخری زمانہ تھا۔ مولانا کراچی کے مشہور و معروف خالق دینا ہال میں چلنے والے تاریخی مقولے کے بعد دوسری باراسیری سے رہا ہوکر تازہ تازہ دلی تشریف لائے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ان کی شہرت اور مقبولیت بام عروج پر تھی۔ گلی گلی،کوچہ کوچہ اورشہر درشہر بس ان ہی کے چرچے تھے۔ کانگریس کے سرکردہ رہنما گاندھی جی کے ساتھ ساتھ پورے ہندوستان میں ان کی بھی جے جے کار ہو رہی تھی اور کانگریس کے سالانہ اجلاس کی صدارت کے لیے متعدد صوبوں سے ان کا نام منظور ہوچکا تھا۔ ان حالات میں علی گڑھ کے ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران انھوں نے برجستہ فرمایا کہ عقائد کے اعتبار سے ایک عام فاسق مسلمان کو بھی گاندھی جی پر فوقیت حاصل ہے۔ مولانا کے ان کلمات پر ہندو چراغ پا ہوگئے اور کانگریسی حلقوں میں تو ایک طوفانی ہلچل مچ گئی۔ بعض کانگریسی رہنماؤں نے تو یہ تک کہہ دیا کہ ایسا فرقہ پرست شخص کانگریس کا بھلا کیسے بن سکتا ہے؟محمد علی جوہر کی جگہ اگر کوئی اور شخص ہوتا تو گھبرا کر معذرت خواہی پر اتر آتا۔ مگر اللہ کا یہ شیر پوری جرأت اور استقامت کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔
مشہور و معروف امین الدولہ پارک کے ایک اہم جلسہ عام میں انھوں نے ببانگ دہل یہ بھی کہا کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیے۔’’جہاں تک سیاست کا تعلق ہے گاندھی جی ہم سب کے پیشوا ہیں لیکن جہاں تک مذہب کا تعلق ہے میرا یہی عقیدہ ہے کہ ایک فاسق و فاجر کلمہ گو بھی اپنے عقائد کے لحاظ سے تنہا مہاتما گاندھی ہی نہیں بلکہ دنیا جہان کے تمام بہتر سے بہتر سارے غیر مسلموں سے بڑھ چڑھ کر ہے۔‘‘ مولانا کی اس جرأت مندی کے نتیجے میں پورے مجمع پر سناٹا چھا گیا۔
اسی طرح جب پونا کے ایک ہندو اخبار میں گؤرکھشا یعنی گائے کے تقدس کی حمایت میں ہندو انتہا پسند رہنما بال گنگا دھر تلک کے حمایت یافتہ ایڈیٹر این سی کیلکر کا ایک متعصبانہ مضمون شایع ہوا تو مولانا بری طرح تڑپ اٹھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ان کا مشہور انگریزی اخبار کامریڈ فرنگی حکومت کے زیر عتاب ہونے کی وجہ سے بند پڑا ہوا تھا۔ یہ اشتعال انگیز مضمون مسلمانوں کے لیے کسی دھمکی سے کم نہ تھا۔ چنانچہ مولانا نے فوراً اس کے جواب میں ایک زبردست خط تحریر کرکے کیلکر کو ارسال کرنے کے لیے اپنے سیکریٹری حسن محمد حیات کے حوالے کردیا۔ اس خط کا لب لباب یہ تھا کہ اگر مسلمانوں پر ذرا بھی جبر کا کوئی پہلو پیدا ہوا تو میں پونا آکر خود اپنے ہاتھوں سے گائے ذبح کروں گا۔
اسی طرح انگریزوں کی حکومت کو للکارتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ’’میری بغاوت اس وقت سے شروع ہونے لگتی ہے جب دین و مذہب میں حکومت کی مداخلت شروع ہوجاتی ہے۔‘‘
ایک اور واقعہ 1928 کے درمیان کا ہے جب مولانا ذیابیطس کے علاج کے سلسلے میں فرانس اور برطانیہ گئے ہوئے تھے۔ ایک روز لندن کے ایک اخبار میں یہ خبر چھپی کہ ایک مسلمان کو پارلیمنٹ کی گیلری میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا گیا جوکہ بالکل انوکھی بات تھی۔ سب جان گئے کہ یہ مولانا محمدعلی جوہر کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔
مولانا پر بس یہی دھن سوار تھی کہ پورا یورپ گھومیں اور قرآن کے انمول خزانے کو ایک ایک شخص تک پہنچائیں اور ہر اسٹیشن، ہر پارک اور ہر چوراہے پر نماز ادا کرکے لوگوں کو دین اسلام کے ابدی پیغام سے روشناس کرائیں۔
اسی سلسلے کا ایک اور واقعہ بھی ہے۔
رات آدھی سے زیادہ ڈھل چکی تھی۔ غالباً شب کا پچھلا پہر تھا۔ ستارے آسمان پر ٹمٹما رہے تھے۔ اس وقت مفتی اعظم فلسطین امین الحسین صاحب خانہ کعبہ کے پاس سے ہوکر گزر رہے تھے۔ دیکھتے کیا ہیں کہ ایک شخص نہایت عاجزی اور دلسوزی کے ساتھ گریہ و زاری میں مصروف ہے۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک جھڑی لگی ہوئی ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ آواز بیٹھی ہوئی اور گردن سجدے میں جھکی ہوئی ہے۔ وہ شخص گڑگڑا کر اور رو رو کر پکار رہا تھا کہ ’’اے کارساز عالم چاہے تو میری کوئی اور آرزو پوری نہ کر، لیکن ایک بار ان آنکھوں کے سامنے خلافت راشدہ کا احیاء کرکے وہ مبارک اور مسعود زمانہ واپس لاکر دکھادے جس کا ذکر ہم نے صرف کانوں سے سنا ہے مگر آنکھیں جس کی دید سے اب تک محروم ہیں۔‘‘
مفتی اعظم فلسطین کا بیان ہے کہ میں حیرت سے یہ عجیب وغریب منظر دیکھ رہا تھا۔ پھر جب اس شخص نے اپنی پیشانی سجدے سے اٹھائی تو دیکھتا کیا ہوں کہ یہ مولانا محمد علی جوہر تھے جن کا نورانی چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔
اللہ تعالیٰ نے مولانا محمد علی کو شاعری کی نعمت سے بھی نوازا تھا اور جوہر ان کا تخلص تھا۔ اس بے بہا نعمت سے بھی انھوں نے وہی کام لیا جو ایک مرد مومن کے شایان شان تھا۔ ان کی شاعری و ارادت قلب سے عبارت ہے اور یہ ان کے دل کی زبان اور جذبہ صادق کی ترجمان ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب اشعار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻗﺘﻞ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮒ ﯾﺰﯾﺪ ﮨﮯ
ﺍﺳﻼﻡ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮨﺮ ﮐﺮﺑﻼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺷﮑﻮﮦ ﺻﯿﺎﺩ ﮐﺎ ﺑﮯ ﺟﺎ ﮨﮯ ﻗﻔﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﻠﺒﻞ
ﯾﺎﮞ ﺗﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﺗﺮﺍ ﻃﺮﺯ ﻓﻐﺎﮞ ﻻﯾﺎ ﮨﮯ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﯿﺎﺻﺒﺢ ﺗﻠﮏﺳﺎﺗﮫﻧﺒﮭﮯ ﮔﺎ ﺍﮮ ﻋﻤﺮ
ﺷﺐﻓﺮﻗﺖ ﮐﯽ ﺟﻮﮔﮭﮍﯾﻮﮞ ﮐﺎﮔﺰﺭﻧﺎ ﮨﮯ ﯾﮩﯽ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﯾﮧﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧﺳﻮﺩﺍﺋﯽ ﮨﮯ
ﺍﺏ ﻣﺮﺍ ﮨﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺎ ﺗﺮﯼ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﮨﮯ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﻮﺣﯿﺪ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﺪﺍﺣﺸﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺩﮮ
ﯾﮧ ﺑﻨﺪﮦ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺧﻔﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﮐﺲ ﺳﮯ ﺁﺯﺭﺩﮦ ﻣﺮﮮ ﻗﺎﺗﻞ ﮐﺎ ﺧﻨﺠﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺟﻮ ﺁﺝ ﯾﻮﮞ ﺟﺎﻣﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﻣﯿﺮﺍ ﺷﮩﺮﮦ ﺁﺝ ﺍﮎ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﮔﮭﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻗﺎﺗﻞ ﯾﮧ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺗﺸﻨﮧ ﻟﺐ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺩﮦ ﺧﻮﺍﺭ
ﮐﯿﺎ ﺗﺮﺍ ﺳﺎﻏﺮ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﻗﯽ ﺟﺎﻡ ﮐﻮﺛﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﻭﺣﺸﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﮮ ﺩﺳﺖ ﺟﻨﻮﮞ ﮐﺲ ﮐﺎﻡ ﮐﯽ
ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﯿﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺩﻭﺑﮭﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﺟﻮﺵ ﻭﺣﺸﺖ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻋﺮﯾﺎﮞ ﮨﯽ ﺭﮨﮯ
ﺑﺎﺭﮮ ﻣﺮ ﮐﺮ ﺍﮎ ﮐﻔﻦ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﯾﺎ ﻧﮧ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﺧﯿﺎﻝ
ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺑﮯ ﺑﺎﮎ ﺗﻮ ﺍﮮ ﺩﯾﺪۂ ﺗﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
ﻣﮋﺩﮦ ﺍﮮ ﮔﻨﺞ ﺷﮩﯿﺪﺍﮞ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﮭﯽ ﺩﻥ ﭘﮭﺮ ﮔﺌﮯ
ﺁﺝ ﺩﻝ ﺑﺮﺩﺍﺷﺘﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺟﻮﮨﺮؔ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لئے ہے
پر غیب سے سامانِ بقا میرے لئے ہے
پیغام ملا تھا جو حسین ابنِ علی کو
خوش ہوں وہی پیغامِ قضا میرے لئے ہے
یہ حورِ بہشتی کی طرف سے ہے بلاوا
لبیک کہ مقتل کا صلا میرے لئے ہے
کیوں جان نہ دوں غم میں ترے جب کہ ابھی سے
ماتم یہ زمانے میں بپا میرے لئے ہے
میں کھو کے تری راہ میں سب دولتِ دنیا
سمجھا کہ کچھ اس سے بھی سوا میرے لئے ہے
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے
سرخی میں نہیں دستِ حنا بستہ بھی کچھ کم
پر شوخئ خونِ شہداء میرے لئے ہے
راحل ہوں مسلمان بصد نعرہء تکبیر
یہ قافلہ یہ بانگِ درا میرے لئے ہے
انعام کا عقبٰی کے تو کیا پوچھنا لیکن
دنیا میں بھی ایماں کا صلا میرے لئے ہے
کیوں ایسے نبی پر نہ فدا ہوں کہ جو فرمائے
اچھے تو سبھی کے ہیں برا میرے لئے ہے
اے شافعِ محشر جو کرے تو نہ شفاعت
پھر کون وہاں تیرے سوا میرے لئے ہے
اللہ ہی کے رستے میں موت آئے مسیحا
اکسیر یہی ایک دوا میرے لئے ہے
کیا ڈر جو ہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لئے ہے
جو صحبتِ اغیار میں ہو اس درجہ بیباک
اس شوخ کی سب شرم و حیا میرے لئے ہے
ہے ظلم بہت عام ترا پھر بھی ستمگر
مخصوص یہ اندازِ جفا میرے لئے ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مل چکا تجھ سے صلہ ہم کو وفاداری کا
تجھ کو آیا نہ سلیقہ کبھی دل داری کا
طفل مکتب ہے ترے سامنے خود چرخ کہن
کس سے سیکھا ہے یہ انداز دل آزاری کا
عقل والا کوئی بچتا نہیں پھندے سے ترے
گو بہت عام ہے شہرہ تری عیاری کا
ہم کو خود شوقِ شہادت ہے، گواہی کیسی؟
فیصلہ کر بھی چکو مجرمِ اقراری کا
میری شہرت بھی اگر ہوگی تو کیا؟ قتل بھی کر
نام ہوجائے گا تیری بھی ستم گاری کا
کیا قباحت ہے مری قتل سے شہرت ہی سہی
نام ہوگا نہ بھلا تیرے ستم گاری کا
قاتل اب دیر ہے کیا؟ جام شہادت دے چک
ہوگیا وقت کبھی کا، مری افطاری کا
تو ہو آمادہ جو، اے دل تو ہے پھر دار بھی ہیچ!
آزما دیکھ، یہ سب کھیل ہے تیاری کا!
سب ہیں فانی، غم دنیا نہ رہا، ہم نہ رہے
رہ گیا نام ِغم عشق کی غم خواری کا
تو تو ہم سب کو یہیں چھوڑ چلا اے جوہر
شور سنتے تھے بہت تیری وفاداری کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دَورِحیات آئے گا قاتِل! قضا کے بعد
ہے اِبتدا ہماری، تِرے اِنتہا کے بعد
جِینا وہ کیا، کہ دل میں نہ ہو تیری آرزو
باقی ہے موت ہی، دلِ بے مُدّعا کے بعد
تجھ سے مُقابلہ کی، کِسے تاب ہے ولے
میرا لہُو بھی خوب ہے تیری حِنا کے بعد
لذّت ہنوز مایدۂ عشق میں نہیں!
آتا ہے لُطفِ جُرمِ تمنّا، سزا کے بعد
قتلِ حُسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اِسلام زندہ ہوتا ہے ہرکربلا کے بعد
مُمکن ہے نالہ جبر سے رُک بھی سکے، مگر
ہم پرتو ہے وفا کا تقاضا، جفا کے بعد
ہے کِس کے بل پہ حضرتِ جوہر یہ رُوکشی
ڈھونڈیں ہے آپ کِس کا سہارا خُدا کے بعد
_از:وجاہت علی حسن_
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


0 Comments